سی او ڈی کی منظوری

ڈائریکٹر کا پیغام:

"ٹیم کی ان تھک محنت، غیر معمولی عزم اور اعتقاد کا یہ نتیجہ ہے کہ اس منصوبہ نے تصور سے بھی زیادہ منزلیں طے کیں۔ یہ سفر یقیناً مشکل اور کٹھن تھا لیکن ٹیم کے عزم اور اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ اس سیکٹر میں یہ ایک مثالی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ونڈپاور پراجیکٹ ہے جو محض 14 مہینوں میں مکمل کیا گیا۔ "

دنیا بھر میں پانی سے بجلی پیدا کرے کی صلاحیت 2006 میں 896.9 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2011 میں 1072.1 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔

حکومتوں کا رجحان پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2020 تک یہ پیداوار 1443 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ مختلف ممالک ایندھن سے پیدا کی جانے والی بجلی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں چھوٹے ہائیڈرو پلانٹس ایک بہترین حل ہیں۔

شمسی توانائی کی پیداوار وقت کے ساتھ یقیناً سستی ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی ہمارے ملک میں تیل کے درآمد میں کمی کا باعث بنے گی۔ 2014 میں دنیا بھر میں 177 گیگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے پیدا کی جاتی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق یہ پیداوار 2018 تک تقریباً دو گنا ہو جائے گی۔

عالمی طور پر 2014 میں ریکارڈ 95 گیگاواٹ کے نئے ونڈ اور سولر منصوبے تنصیب کیے گئے۔

آئی ای اے اندازے کے مطابق قابل تجدید انرجی کی پیداوار 2011 میں 20 فیصد سے بڑھ کر 2018 میں 25 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ 2014 میں نان ہائیڈرو قابل تجدید انرجی کی پیداوار تقریباً 50 فیصد تھی۔ جو کہ مسلسل تین سالوں سے چالیس فیصد سے ذائد ہے۔

 

ورلڈ ونڈ انرجی ڈوولپمنٹ

 

پاکستان میں توانائی کا منظر

 

انرجی پالیسی اِن پاکستان