سولر ہائبرڈ

چالیس میگاواٹ کا سولر پلانٹ

شمسی توانائی

پاکستان روزمرہ کی بنیاد پر اوسطً انیس میگا جول فی سکوائر میٹر شمسی توانائی وصول کرتا ہے۔ جو پی وی اور سی ایس پی کے لیے کافی مفید ثابت ہوتی ہے۔ نیشنل ری نیو ایبل انرجی لیبارٹریز، امریکہ نے یو ایس ایڈ کی مدد سے ۲۰۰۷ میں پاکستان کے شمسی وسائل کا مطالعہ کیا اور ممکنہ سائٹس کی نشاندہی کی۔ این آر ای ایل کے مطابق پاکستان روزانہ پانچ سے سات کلو واٹ آور فی میٹر سکوائر شمسی توانائی وصول کرتا ہے۔ اس حاصل کردہ توانائی سے دس لاکھ میگا واٹ سے زائد کی فوٹو وولٹک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

 

شمسی فیڈکاٹیرف

پاکستان میں بجلی کے بحران سے جلد نمٹنے کے لیے نیپرا نے اہم قدم اٹھائے ہیں۔ جس میں سے ایک سستی بجلی کی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہے۔ اسی وجہ سے نیپرا نے ممکنہ انوسٹرز کی مدد کے لیے شمسی ٹیرف میں تین مختلف رینجز متعارف کروائی ہیں(۱ میگاواٹ سے لے کر ۲۰ میگاواٹ، ۲۰ میگاواٹ سے لے کر ۵۰ میگاواٹ، ۵۰ میگاواٹ سے لے کر ۱۰۰ میگاواٹ)۔ ملک کے جنوبی اور شمالی حصے یکساں شمسی توانائی وصول نہیں کرتے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئےنیپرا نے دو مختلف ٹیرف متعارف کروائے ہیں۔ اسی وجہ سے نیپرا نے ملک کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں مختلف پیداواری صلاحیت کے شمسی پلانٹ بنانے کی اجازت دی۔ جنوبی خطے میں صوبہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب شامل ہیں۔ جبکہ باقی ملک شمالی خطہ کا حصہ ہے۔ اپ فرنٹ ٹیرف کا اطلاق پچیس سالہ کنٹرول پیریڈ پر ہو گا۔ انرجی پرچیز اینڈ امپلیمنٹیشن اگریمنٹ کے تحت طے پانے والی رعائیت کو سورن گارنٹی کی حمایت حاصل ہو گی جو کہ حکومت پاکستان کی طرف سے دی جائے گی۔ مزید بر آں سپانسرز کی مالیاتی اخراجات میں مدد کے لیے ٹیرف میں لچک فراہم کی جائے گی۔

 

ایس ڈبلیو پی سی ایل کا شمسی توانائی کا منصوبہ

سفائیر گروپ اور بنک الفلاح نے ایس ڈبلیو پی سی ایل کو ایک خاص مقصد کے لیے تشکیل دیا۔ جو آزاد بجلی گھر کی حیثیت سے جھمپیر میں لگایا گیا ہے۔ اس کے لیے اے ای ڈی بی سے تیرہ سو بہتر کلو میٹر ایکڑ زمین لیز پر خریدی گئی اور ۵۲.۸ میگاواٹ کا ونڈ فارم بنایا گیا۔ ایس ڈبلیو پی سی ایل اسی سائٹ پر ونڈ فارم کے ساتھ ایک سولر پاور پلانٹ ہائبرڈ موڈ میں لگانے کا ارادہ رکتھی ہے۔ سائٹ کے رقبے کے تجزیے کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس سائٹ پر ایک پی وی پلانٹ تقریباً چالیس میگاواٹ کی ڈی سی بجلی ہائبرڈ موڈ میں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہائبرڈ موڈ نہ صرف گرڈ بلکہ پلانٹ کی صلاحیت کو بھی بہتر طریقے سے استعمال میں لانے میں معاون ثابت ہو گا۔